ہلیال:11؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز) گذشتہ 14دنوں سے جاری گنا کسانوں کا دن رات کا احتجاج عارضی طورپر واپس لیا گیا ہے۔ احتجاج واپس لینے کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر ملئی مہیلن کی صدارت میں منعقدہ گنا کسانوں کے ساتھ کارخانے اور عوامی نمائندوں کی میٹنگ میں لیاگیا۔
رواں سال گنے کو اچھی قیمت دینا، جوبھی بقیہ ہے اس کو فی ٹن گنے کو 305روپئے ادا کرنا ، فصل کٹاؤ اور سپلائی کی نرخ میں ترمیم اور 2019سے 2021تک تین برسوں میں کسانوں سے وصول کئےگئے اضافی سپلائی خرچ کسانوں کو واپس کرنا،ہلیال حلقہ کے گنے کو ترجیحات کی بنیاد پر لینےجیسی مختلف مانگوں کو لےکرگذشتہ 14دنوں سے ای آئی ڈی پیاری شکر کارخانےکو بند کرکے کرناٹکا راجیا کوبّوُبیلگارر سنگھا کی قیادت میں گنا سپلائی سواریوں کو روک کر گنا کسانوں نے بڑے پیمانےپر احتجاج جاری رکھا تھا۔
گناکسانوں کےاحتجاج میں دن بدن شدت پیداہوتی دیکھ کر اترکنڑا ضلع ڈپٹی کمشنر ملئی مہیلن نے گنا کسان لیڈران کو کاروار میں میٹنگ کے لئےدعوت دی تھی لیکن کسانوں نے دعوت سےانکار کرتےہوئے ہلیال میں ہی میٹنگ منعقد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کسانوں کی مانگ کےمطابق ڈی سی نے ہلیال کا دورہ کرتےہوئے انتظامیہ سودھا میں کسانوں ، عوامی نمائندوں اورکارخانےوالوں کےساتھ میٹنگ کا انعقاد کیا۔ رکن اسمبلی آر وی دیش پانڈے ، سابق رکن اسمبلی سنیل ہیگڈے، ودھان پریشد کے سابق رکن ایس ایل گھوٹنیکر ، گناکسان سنگھا کے صدر سندیپ کمار بوباٹے ، شنکر کاجوگارسمیت اہم لیڈران موجود تھے۔ ای آئی ڈی پیاری شکر کارخانے کے چیف مینجر جے وینکٹ راؤ کی حاضری میں ڈی سی سے کافی طویل گفتگو ہوئی ۔ انتظامیہ سودھا میں ڈی سی کے ساتھ میٹنگ جاری تھی تو باہر انتظامیہ سودھا کے سامنے ہزاروں کسان ڈی سی کے فیصلے پر نظر رکھتےہوئےباربار نعرے بازی کررہےتھے۔ قریب 2گھنٹوں کے بعد خود ڈی سی نے کسانوں کے پاس پہنچ کر میٹنگ میں لئے گئےفیصلوں کو سنایا۔ 13اکتوبر کو کمشنر کے ساتھ منعقد ہونےوالی میٹنگ میں حتمی فیصلہ لینے کی بات کہتے ہوئے کسانوں سےاحتجاج واپس لینے کی اپیل کی۔ میٹنگ میں اسسٹنٹ کمشنر دیوراج ، تحصیلدار پرکاش گائیکواڑ، شئیلیش پرمانند، زرعی افسر پی آئی مانے اور دیگر افسران موجود تھے۔
گنا کسان سنگھا کے صدر سندیپ کمار نے بتایا کہ فی الحال 13اکتوبر تک شکر کارخانے کو بند رکھتےہوئے کمشنر کی میٹنگ کے بعد ہی شکر کارخانے کو شروع کئے جانےکا تیقن دیاگیا تو 14دنوں سے جاری دن رات والا کسانوں کااحتجاج عارضی طورپرواپس لے رہے ہیں اگر 13اکتوبر کی میٹنگ میں کسانوں کےساتھ انصاف نہیں کیاگیا تو اس سے بھی بڑےپیمانے پر احتجاج کئےجانے کا انتباہ دیا۔
ڈی سی کے ساتھ میٹنگ اور کسان احتجاج میں شدت کو دیکھتےہوئے ہلیال میں 300سے زائد پولس فورس ، ڈی اے آر اور کے ایس آرپی دستہ ، 12پی ایس آئی ، 5سی پی آئی سمیت ڈی وائی ایس پی کے ایل گنیش کی قیادت میں پولس سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔
میٹنگ کے اہم فیصلے :ہلیال حلقہ کے کسانوں کا گناکو اولین ترجیح دیتےہوئے شمار بندی کے بعد تیار کی جانےو الی فہرست کو ہر دیہات میں چسپاں کیا جائے گا۔ تعلقہ پنچایت افسر پرشورام گستے اور تحصیلدار پرکاش گائیکواڑ اس کی نگرانی کریں گے۔ فصل کٹاؤ اور سپلائی کی نرخوں میں ترمیم اور گذشتہ تین برسوں کے بقیہ ادائیگی کےمتعلق کمشنر کے ساتھ ہونےو الی میٹنگ میں فیصلہ لیا جائے گا۔ رواں سال ایف آر پی کی قیمتوں میں کافی گراوٹ آئی ہے۔ اس سلسلےمیں کسانوں کو بہتر قیمت طئےکرنے کےلئے گناترقی اور شوگر ڈائرکٹوریٹ کمشنر کے سامنے ہی فیصلہ لیاجائےگا۔ 13اکتوبر کمشنر کی میٹنگ ہونے تک کسانوں کے مطالبہ کے تحت شکر کارخانہ کام نہیں کرے گا۔